اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ 1956 میں ایک عرب نوجوان نے جمال عبدالناصر نے برطانیہ کو جس کے لئے کبھی کہا جاتا تھا کہ اس کی سلطنت میں سورج نہیں ڈوبتا، یہاں سے نکل جانے پر مجبور کردیا تھا، اسی طرح امریکا بھی عنقریب علاقے سے نکلنے پر مجبور ہوجائے گا۔
ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے لکھا ہے کہ اس وقت ایران اور استقامتی محاذ سے امریکی سامراج کی شکست اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول پوری طرح ایران کے اختیار میں آجانے کے بعد امریکی سطنت کا زوال بھی شروع ہوگیا ہے۔
انھوں نے اپنی اس تحریر کے ایک حصے میں لکھا ہے کہ ہم عراق کے باشرف عوام اور حکومت عراق سے عرض کرتے ہیں کہ ٹرمپ کا علاقے میں نہ کوئی اعتبار رہا اور نہ ہی اثرونفوذ باقی ہے اور توقع ہے کہ آئندہ مہینوں میں اس علاقے میں امریکا کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔
ڈاکٹر ولایتی لکھتے ہیں کہ امریکا کے برخلاف ایران استقامتی محاذ کے محور اور دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا پر کامیابی حاصل کرنے والے واحد ملک کی حیثیت سے جس نے امریکی صدر ٹرمپ کی ناک زمین پر رگڑ دی ہے، اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ امریکا مغربی ایشیا میں اپنا کام جاری رکھ سکے۔
انھوں نے لکھا ہے کہ امریکی جو ماضی کی طرح عراق کے لئے اپنی دھمکیوں کی تکرار کررہے ہیں، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ٹرمپ کے پاس نہ عزت ہے نہ طاقت۔ یہ بات بعض امریکی سیاستداں اور فرانس، جرمنی اور برطانیہ جیسے اس کے اتحادی بھی سمجھ گئے ہیں کہ امریکا کا زوال شروع ہوچکا ہے اور اب برازیل اور کیوبا جیسے خومختار ممالک بھی اس کے مقابلے پر کھڑے ہوجائيں گے۔
ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے اپنی اس تحریر میں لکھا ہے کہ ماضی میں نیٹو امریکا کا اتحادی تھا لیکن اب نیٹو کے رکن 11 ممالک عراق سے جاچکے ہیں جبکہ نیٹو کے رکن اہم ممالک جیسے برطانیہ، جرمنی اور فرانس سے امریکا کا اختلاف روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ لہذا اب پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اجماع سے صدر مملکت اور نوجوان اور صاحب اختیار وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد عراق ماضی سے زیادہ طاقتور ہوکر آگے بڑھے گا۔
آپ کا تبصرہ